بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ
حرؔ پکارا بابیِ انت و امی یا شاہقابل عفو نہ تھے بندۂ آثم کے گناہمجھ سے گمراہ کو اک آن میں مل جائے یہ راہسب ہے صدقہ انہیں قدموں کا خدا ہے آگاہمہر ذرے پہ جو ہو نیرِ تاباں ہو جائےآپ جس مور کو چاہیں وہ سلیماں ہو جائے
About this couplet
This is couplet 75 of 136 in “بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۷۵ / ۱۳۶