بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ

لاکھ ہاتھ اس کے ہیں دینے کے وہ ایسا ہے جوادہم اسے بھولیں تو بھولیں، وہ ہمیں رکھتا ہے یادرزق وہ حوصلۂ حرص سے دیتا ہے زیادشکر کرتے نہیں معبود کا اس پر بھی عبادوہ غنی ہے کہ ہے محتاج زمانہ اس کاکبھی خالی نہیں ہوتا ہے خزانہ اس کا

About this couplet

This is couplet 78 of 136 in “⁨بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۷۸ / ۱۳۶