بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ
جس قدر اس سے طلب کیجئے خوشنود ہے وہصاحبِ جود ہے وہاب ہے، محمود ہے وہہاتھ پھیلائے جو سو بار تو، موجود ہے وہبخش دیتا ہے کہ ہم عبد ہیں، معبود ہے وہپرورش جرم پہ بھی، صبح و مسا ہوتی ہےیاں سے ہوتی ہے خطا واں سے عطا ہوتی ہے
About this couplet
This is couplet 79 of 136 in “بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۷۹ / ۱۳۶