آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے

آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہےصبح سے جشن کا غل شام کے بازار میں ہےصحبتِ عیشِ طرب مجلس غدار میں ہےشور و فریاد و بکا عترتِ اظہار میں ہےنوبتیں بجتی ہیں دشمن تو خوشی ہوتے ہیںفاطمہؔ پیٹتی ہیں، شیرِ خداروتے ہیں

About this couplet

This is couplet 1 of 40 in “⁨آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱ / ۴۰