آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے

آگے آگے تو ہیں سجادؔ جھکائے گردنپاؤں بیڑی میں، گلا طوق میں گردن میں رسنمثلِ خورشیدِ فلک شرم سے لرزاں ہے بدنچاک ہے غم میں گریبانِ قبا تا دامنبیٹھ جاتے ہیں تو جھنجھلا کے اٹھاتے ہیں لعیںبوڑیاں نیزوں کی، شانوں میں چھپاتے ہیں لعیں

About this couplet

This is couplet 2 of 40 in “⁨آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۲ / ۴۰