آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے
روتے تھے سن کے سکینہؔ کا بیاں سارے امیرہر قدم پر تھا یہی شور کہ ہے ہے شبیراس طرف ہوتی تھی آرائشِ دربارِ شریرتخت پر آپ تھا اور کرسیوں پر سارے امیراک طرف لوٹ کا سب زیور و زر رکھا تھااور تلے فاطمہ کے لعل کا سر رکھا تھا
About this couplet
This is couplet 12 of 40 in “آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۲ / ۴۰