آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے
نذریں ہاتھوں پہ لیے آتے تھے سب درباریپڑھتے تھے تہنیت فتح کو باری باریجمع دربار میں تھی، شہر کی خلفت سارییاں تو تھا جشن کا غل، اور ادھر تھی زاریاس طرف تو دف و نے کی صدا آتی تھیاور اس سمت سے ہے ہے کی صدا آتی تھی
About this couplet
This is couplet 13 of 40 in “آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۳ / ۴۰