آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے
دم بدم تخت سے اٹھ اٹھ کے یہ کہتا تھا شریرقیدی کیوں جلد نہیں آتے ہیں کیا ہے تاخیربڑھ کے کرتے تھے خبردار یہ اُس دم تقریرضعف سے پاؤں کو تھم تھم کے اٹھاتے ہیں اسیرمارے دہشت کے لہو ان کا گھٹا جاتا ہےہر قدم ایک ضعیفہ کو غش آجاتا ہے
About this couplet
This is couplet 14 of 40 in “آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۴ / ۴۰