آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے

ذکرِ یہ تھا کہ وہ قیدی سرِ دربار آئےسب پکارے کہ وہ حاکم کے گنہگار آئےآگے روتے ہوئے سجادِؔ دل افگار آئےسر برہنہ حرم احمد مختار آئےصاف خورشید سی شکلیں جو نظر آتی ہےآنکھیں سب ظالموں کی بند ہوئی جاتی ہے

About this couplet

This is couplet 19 of 40 in “⁨آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۹ / ۴۰