آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے
گو کہ اس روز تھیں سیدانیاں کھولے ہوئے بالمنہ چھپانے کو کسی پاس نہ تھا اک رومالبیٹیوں کا اسد اللہ کی، اللہ رے جلالآنکھ اٹھا کر کوئی دیکھے، یہ کسی کی تھی مجالجلوۂ رشنیِ طور نظر آتا تھاکچھ نہ آنکھوں کو بجز نور نظر آتا ہے
About this couplet
This is couplet 20 of 40 in “آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۲۰ / ۴۰