آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے
پردۂ چشم سے باہر نہ نکلتی تھی نظرایک سے پوچھتا تھا ایک کہ قیدی ہیں کدھر؟بیٹیاں فاطمہؔ زہرا کی جو تھیں ننگے سردست حیدرؔ تھا تماشائیوں کی آنکھوں پرتھا جو منظورِ خدا آلِ عبا کا پردہفاطمہؔ روکتی تھی، اپنی ردا کا پردہ
About this couplet
This is couplet 21 of 40 in “آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۲۱ / ۴۰