آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے
پنڈلیاں سوجی ہیں، اور طوق سے چھلتا ہے گلاسخت ایذا میں ہے ، فرزند شۂ کرب و بلاخار تلووں میں ہیں، مقتل سے جو پیدل ہے چلادھجیاں پاؤں میں باندھے ہے، وہ نازوں کا پلااس کی مظلومی پہ بیتاب حرم ہوتے ہیںدیدۂ حلقۂ زنجیر لہو روتے ہیں
About this couplet
This is couplet 3 of 40 in “آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۳ / ۴۰