آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے

ترے ناموس تو ہیں پردہ نشیں او اظلمبال بکھرائے کھڑے ہیں، ترے دربار میں ہمہائے بے پردہ ہے بانوئے امامِ عالمہے سکینہؔ پہ وہ ظلم اور یہ کبراؔ پہ ستمننگے سر قید میں اک رات کی بیاہی آئیتجھ کو شادی ہوئی اور ہم پہ تباہی آئی

About this couplet

This is couplet 32 of 40 in “⁨آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۳۲ / ۴۰