آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے

کیے زینبؔ نے فصاحت سے یہ جس وقت کلامکانپے سینوں میں جگر رونے لگے لوگ تمامتخت کے نیچے دھرا تھا جو سرِ پاکِ اماممتوجہ ہوا شرما کے ادھر حاکمِ شاماور ان ظلم رسیدوں پہ جفا کرنے لگالبِ فرزند پیمبر پہ چھری دھرنے لگا

About this couplet

This is couplet 33 of 40 in “⁨آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۳۳ / ۴۰