آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے
کھول کر چوب سے لب ہائے شہنشاہِ عربکہتا تھا پارۂ یاقوت سے بہتر ہیں لبدرِ دنداں ہیں یہ تاباں کہ خجل ہیں کوکبپیٹ کر سینے کو زینبؔ نے کہا ہائے غضبنہ محمدؔ سے نہ حیدرؔ سے حیا کرتا ہےقطع ہو جائے ترا ہاتھ، یہ کیا کرتا ہے
About this couplet
This is couplet 34 of 40 in “آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۳۴ / ۴۰