آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے
یہ ستم بھائی پہ کن آنکھوں سے دیکھے ہمشیرارے ظالم سرِ بے تن کی بھلا کیا تفصیریہ چھڑی ہائے غضب اور لبِ پاک شبیرؔنہ ستا مجھ کو میں ہوں بنتِ شۂ خیبر گیران کھلے بالوں کو اب ہاتھوں پہ دھرتی ہوں میںلے شکایت تری اللہ سے کرتی ہوں میں
About this couplet
This is couplet 36 of 40 in “آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۳۶ / ۴۰