آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے

کہہ کے یہ غیظ میں آئی جو علیؔ کی جائیآسماں آ گئے جنبش میں زمیں تھرائیسر شبیر سے ناگاہ صدا یہ آئیتھام لے غصے کو زینبؔ ترے صدقے بھائینہ تلاطم میں کہیں قہر الٰہی آ جائےکہیں امت کی نہ کشتی پہ تباہی آ جائے

About this couplet

This is couplet 37 of 40 in “⁨آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۳۷ / ۴۰