آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے

سرِ شبیر نے زینبؔ سے جو یہ کی تقریرآ کے غصے میں لگا کانپنے وہ حاکم بے پیرشمرؔ سے بولا کہ بس اس کی یہی ہے تعزیرسب کو لے جا کے تو کر سخت خرابے میں اسیربس انیسؔ اب جگر و قلب پھنکا جاتا ہےحال زنداں کا نہیں منہ سے کہاجاتا ہے

About this couplet

This is couplet 40 of 40 in “⁨آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۴۰ / ۴۰