آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے
برچھیاں کھانے سے کیا اس میں کچھ ایذا ہے پڑیچپ رہے تن پہ جو تلوار یہ تلوار پڑیجانے دو رکھی تو رکھی مرے ہونٹوں پہ چھڑیاے بہن یہ بھی گذر جائے گی آفت کی گھڑیچپ ہیں جو ہم پہ ستم راہِ خدا میں ہوگااس کا انصاف تو دربارِ خدا میں ہوگا
About this couplet
This is couplet 39 of 40 in “آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۳۹ / ۴۰