آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے

گردنیں بارہ اسیروں کی ہیں اور ایک رسنجس طرح ہوتے ہیں گلدستے ہیں گلہائے چمنرشتہ دارانِ علیؔ سب ہیں گرفتارِ محنشرم کے مارے موئی جاتی ہے اک شب کی دلہندم بدم ساس بھی سر پیٹتی ہے ساتھ اس کےابھی کنگنا نہ کھلا تھا کہ بندھے ہاتھ اس کے

About this couplet

This is couplet 6 of 40 in “⁨آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۶ / ۴۰