آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے
ہے اس رسی میں ننہا سا سکینہ کا گلودم گھٹا جاتا ہے آنکھوں سے رواں ہیں آنسوچاک کرتے کا گریباں ہے، پریشاں گیسوسوجے تو گال ہیں کانوں سے ٹپکتا ہے لہوآہ ہر گام پہ سینے سے نکل جاتی ہےجب گھرکتے ہیں ستمگر تو دہل جاتے ہے
About this couplet
This is couplet 7 of 40 in “آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۷ / ۴۰