آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے

ماں سے رو رو کے وہ نادان یہ کرتی ہے بیاںکس کا دربار ہے، اس حال سے جاتی ہو کہاںیہ تو کہہ دو کہیں بابا بھی ملیں گے اماںکئی دن گذرے ہیں وہ ہیں مری آنکھوں سے نہاںبھول جائے گایہ سب دکھ جو انہیں پاؤں گیدوڑ کر چاند سی چھاتی سے لپٹ جاؤں گی

About this couplet

This is couplet 9 of 40 in “⁨آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۹ / ۴۰