آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے

ماں سے کرتی ہے اشارہ وہ گرفتارِ ستمرسی کھلوا دو نہیں گھٹ کے نکل جائے گا دمرو کے وہ کہتی ہے مجبور ہوں میں کشتۂ غمہائے بچی تری قسمت میں تھا یہ درد و المصدقے امّاں یہ گرہ عقد کشا کھولے گابی بی اس عقدۂ مشکل کو خدا کھولے گا

About this couplet

This is couplet 8 of 40 in “⁨آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۸ / ۴۰