آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے

آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہےظلم کی چاند پہ زہراؔ کی گھٹا چھائی ہےاس طرف لشکرِ اعدا میں صف آرائی ہےیاں نہ بیٹا نہ بھتیجا نہ کوئی بھائی ہےبرچھیاں کھاتے چلے جاتے ہیں تلواروں میںمار لو پیاسے کو ہے شور ستمگاروں میں

About this couplet

This is couplet 1 of 55 in “⁨آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱ / ۵۵