آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے
زخمی بازو ہیں کمرخم ہے بدن میں نہیں تابڈگمگاتے ہیں نکل جاتی ہے قدموں سے رکابپیاس کا غلبہ ہے لب خشک ہیں آنکھیں ہیں پر آبتیغ سے دیتے ہیں ہر وار کا اعدا کو جوابشدتِ ضعف میں جس جا پہ ٹھہر جاتے ہیںسیکڑوں تیر ستم تن سے گذر جاتے ہیں
About this couplet
This is couplet 2 of 55 in “آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۲ / ۵۵