آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے

عرض کرتے ہیں یہ خالق سے کہ اے لبِ غفور!تو ہے عالم کہ نہیں کچھ ترے بندے کا قصورکرتے ہیں یہ مجھے بے جرم و خطا تیغوں سے چورہاتھ امت پہ اٹھانا نہیں مجھ کو منظورجانتے ہیں کہ محمدؔ کا نواسا ہوں میںپانی دیتے نہیں دو روز کا پیاسا ہوں میں

About this couplet

This is couplet 12 of 55 in “⁨آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۲ / ۵۵