آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے
کہتے ہیں ظالموں سے، خشک زباں دکھلا کربہرِ حق پانی کا، اک جام پلادو لا کراہلِ کیں کہتے ہیں یہ تیغِ ستم چمکا کرآبِ شمشیر پیو برچھیوں کے پھل کھا کریہ سخن سن کے بھی غصہ نہیں فرماتے ہیںیاس سے سوئے فلک دیکھ کے رہ جاتے ہیں
About this couplet
This is couplet 11 of 55 in “آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۱ / ۵۵