آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے
خاک و خوں میں جو تڑپتے تھے ، شہنشاہِ زمنگل کے مانند کھلے جاتے تھے سب زخمِ بدنطلبِ آب میں کھولے ہوئے تھے خشک دہنگرد کھینچے ہوئے تلواریں کھڑے تھے دشمنغمِ ناموس بھی تھا، پیاس کی بھی شدت تھیپھر سکینہؔ کو نہ دیکھ آئے یہی حسرت تھی
About this couplet
This is couplet 29 of 55 in “آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۲۹ / ۵۵