آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے

کان میں آتی تھی زینبؔ کے صدائے جاںکاہدل تڑپ جاتا تھا کرتے تھے عجب درد سے آہراہ روکے ہوئے خیمے کی، کھڑے تھے گمراہنیم وا چشم سے کرتے تھے سوئے خیمہ نگہتنِ زخمی پہ جو پیکانِ ستم گڑتے تھےخاک سے اٹھتے تھے اور کانپ کے گر پڑتے تھے

About this couplet

This is couplet 30 of 55 in “⁨آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۳۰ / ۵۵