آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے

کانپ کر کہتے تھے سب ہم سے نہ ہوگا یہ ستمذبح فرزندِ محمدؔ کو نہیں کرنے کے ہمایسے مظلوم کی چھاتی پہ جو رکھے گا قدمپاؤں جل جائے گا تھرائے گا عرشِ اعظمپیٹتے قبر سے محبوب خدا آویں گےبخدا فاطمہ کی آہ سے جل جاویں گے

About this couplet

This is couplet 33 of 55 in “⁨آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۳۳ / ۵۵