آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے
ایسے مظلوم کا، سر کاٹنا کیا ہے دشوارجس کا کوئی بھی مددگار، نہ ہمدرد، نہ یارعورتیں ہیں کئی خیمے میں غریب و ناچارمر چکے پہلے ہی جو خون کے تھے دعویدارخوں بہا بھی نہ کوئی مانگنے کو آوے گااک پسر ہے سو وہ بیمار ہے مرجاوے گا
About this couplet
This is couplet 32 of 55 in “آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۳۲ / ۵۵