آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے

چاہا ظالم نے کہ پھر شۂ پہ کرے تیغ کا واردیکھا انگشت بدنداں ہیں رسولؐ مختارخشک اس وقت ہوئے دستِ ستمگر اک بارہاتھ سے تیغ گری خوف سے بھاگا، خوں خواریاں سرِ پاک سے حضرت کے لہو جاری تھاخم سوئے قبلہ تھے، بند آنکھیں تھیں غش طاری تھا

About this couplet

This is couplet 36 of 55 in “⁨آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۳۶ / ۵۵