آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے
جب تڑپنے کی بھی طاقت نہ رہی سرور کوغل ہوا یہ کہ غش آیا، خلفِ حیدر کوفوج سے شمر بڑھا کھینچے ہوئے خنجر کوسب سے کہتا تھا کہ اب کاٹو سرِ سرور کوخلفِ احمدِ مختار کا قاتل ہوں میںکام میرا ہے، اسی کام کے قابل ہوں میں
About this couplet
This is couplet 37 of 55 in “آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۳۷ / ۵۵