آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے

فتح کا فوج مخالف میں بجا نقاراغل ہوا قتل ہوا شیر خدا کا پیارابس انیسؔ اب نہیں گویائی کا مجھ کو یاراغم سے خوں ہو گیا سینہ میں کلیجا ساراکس سے اس درد و مصیبت کا بیاں ہوتا ہےآنکھیں روتی ہیں قلم روتا ہے دل روتا ہے

About this couplet

This is couplet 55 of 55 in “⁨آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۵۵ / ۵۵