آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے

کہہ کے یہ غش ہوئے پھر رن میں شہنشاہ اممشمرِ اظلم نے رکھا، سینۂ اقدس پہ قدمجگرِ فاطمہؔ زہرا پہ چلی تیغِ دو دمآگے زینبؔ کے ہوئے ذبح حسینؔ آہ ستمپیٹ کر بنت شہنشاہِ زمن رونے لگیباپ کو بیٹی، برادر کو بہن رونے لگی

About this couplet

This is couplet 54 of 55 in “⁨آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۵۴ / ۵۵