یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر
محسن سے بدی ہے یہی احساں کا عوض واہدشمن کے ہوا خواہ ہوئے دوست کے بد خواہگمراہ کے بہکانے سے روکو نہ مری راہلو اب بھی مسافر کو نکل جانے دو لِلّٰلہمل جائے گی اک دم میں اماں رنج و بلا سےمیں ذبح سے بچ جاؤں گا، تم قہر خدا سے
About this couplet
This is couplet 129 of 186 in “یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۲۹ / ۱۸۶