یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر
بستی میں کہیں مسکن و ماوا نہ کروں گایثرب میں بھی جانے کا ارادہ نہ کروں گاصابر ہوں کسی کا کبھی شکوا نہ کروں گااس ظلم کا میں ذکر بھی اصلا نہ کروں گارونا نہ چھٹے گا کہ عزیزوں سے چھپا ہوںجو پوچھے گا کہہ دوں گا کہ جنگل میں لٹا ہوں
About this couplet
This is couplet 130 of 186 in “یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۳۰ / ۱۸۶