یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر

فرماتے تھے اعدا کو ترائی سے بھگا کرکیوں چھوڑ دیا گھاٹ کو، روکو ہمیں آ کردعوت یونہی کرتے ہیں مسافر کو بلا کر؟ہم چاہیں تو پانی بھی پئیں نہر میں جا کرپر صبر کے دریا میں ہمیں پیاس نہیں ہےاب زہر یہ پانی ہے کہ عبّاس نہیں ہے

About this couplet

This is couplet 151 of 186 in “⁨یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۵۱ / ۱۸۶