یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر
بھولی نہیں اکبر کی ہمیں تشنہ دہانیوہ چاند سا رخ، وہ قد و قامت، وہ جوانیوہ سوکھے ہوئے ہونٹ، وہ اعجاز بیانیدکھلا کے زباں مانگتے تھے نزع میں پانیکس سے کہیں جو خونِ جگر ہم نے پیا ہےبعد ایسے پسر کے بھی، کہیں باپ جیا ہے؟
About this couplet
This is couplet 152 of 186 in “یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۵۲ / ۱۸۶