یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر

یہ کہہ کے سکینہ کے بہشتی کو پکارےالفت ہمیں لے آئی ہے پھر پاس تمھارےلڑتے ہوئے آ پہنچے ہیں دریا کے کنارےعبّاس، غش آتا ہے ہمیں پیاس کے مارےاِن سوکھے ہوئے ہونٹوں سے ہونٹوں کو ملا دوکچھ مشک میں پانی ہو تو بھائی کو پلا دو

About this couplet

This is couplet 153 of 186 in “⁨یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۵۳ / ۱۸۶