یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر

کی شہ نے جو سینے پہ نظر پونچھ کے آنسوسب چھاتی سے تھے پہلوؤں تک تیر سہ پہلوہر سمت سے تیغیں جو لگاتے تھے جفا جوسالم نہ کلائی تھی، نہ شانہ تھا، نہ بازوبرگشتہ زمانہ تھا شہِ تشنہ گلُو سےپھل برچھیوں کے سرخ تھے سیّد کے لہو سے

About this couplet

This is couplet 156 of 186 in “⁨یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۵۶ / ۱۸۶