یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر
زخموں سے جو وہ دستِ مبارک ہوئے بیکارہرنے پہ دھری شاہ نے سپر، میان میں تلواربس کعبۂ ایماں کے قریب آ گئے کفّارمظلوم کو تیغیں جو لگانے لگے اک باریوں شاہ کو گھیرے تھے پرے فوجِ ستم کےجس طرح صف آرا تھے صنم گرد حرم کے
About this couplet
This is couplet 157 of 186 in “یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۵۷ / ۱۸۶