یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر
حضرت کی یہ صورت تھی، فرس کا تھا یہ احوالمنہ تیغوں سے زخمی تھا بدن تیروں سے غربالگھائل تھی جبیں، خون میں ڈوبی ہوئی تھی یالگردن کا وہ کینڈا نہ وہ شوخی تھی نہ وہ چالہر سمت سے تیروں کا جو مینہ اس پہ پڑا تھاپر کھولے ہوئے دھوپ میں طاؤس کھڑا تھا
About this couplet
This is couplet 159 of 186 in “یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۵۹ / ۱۸۶