یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر

جھک جاتے تھے ہرنے پہ جو غش میں شہِ ابرارمنہ پھیر کے آقا کی طرف تکتا تھا راہوارچمکار کے فرماتے تھے شبیّرِ دل افگاراب خاتم جنگ ہے اے اسپِ وفاداراتریں گے بس اب تجھ سے چھٹا ساتھ ہمارانہ پاؤں ترے چلتے ہیں، نہ ہاتھ ہمارا

About this couplet

This is couplet 160 of 186 in “⁨یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۶۰ / ۱۸۶