یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر
گھیرے ہیں عدو، خیمے تلک جا نہیں سکتےکھوئی ہے جو طاقت اسے اب پا نہیں سکتےمشکل ہے سنبھلنا، تجھے دوڑا نہیں سکتےپہلو ترے مجروح ہیں، ٹھکرا نہیں سکتےحیواں کو بھی دکھ ہوتا ہے زخموں کے تعب کامیں درد رسیدہ ہوں، مجھے درد ہے سب کا
About this couplet
This is couplet 162 of 186 in “یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۶۲ / ۱۸۶