یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر
کس طرح دکھاؤں کہ ترے زخم ہیں کاریمیں نے تو کسی دن تجھے قمچی نہیں ماریگھوڑے نے سنی درد کی باتیں جو یہ ساریدو ندّیاں اشکوں کی ہوئیں آنکھوں سے جاریحیواں کو بھی رقّت ہوئی اس لطف و کرم پرمنہ رکھ دیا مڑ کر شہِ والا کے قدم پر
About this couplet
This is couplet 163 of 186 in “یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۶۳ / ۱۸۶