یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر

لکھتا ہے یہ راوی کہ بپا ہو گیا محشربارہ ستم ایجاد بڑھے کھینچ کے خنجراک سیّدہ نکلی درِ خیمہ سے کھلے سربرقع تھا، نہ مقنع تھا، نہ موزے تھے نہ چادرچلّائے لعیں خوف سے ہاتھ آنکھوں پہ دھر کےلو فاطمہ آتی ہے بچانے کو پسر کے

About this couplet

This is couplet 174 of 186 in “⁨یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۷۴ / ۱۸۶