یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر

ہلتا تھا فلک، ہاتھوں سے جب پیٹتی تھی سربجلی کی طرح کوندتے تھے کانوں کے گوہرفرماتی تھیں، فِضّہ جو اڑھا دیتی تھی مِعجَرفریادی ہوں، فریادی کو زیبا نہیں چادرسر ننگے یونہی جاؤں میں روضے پہ نبی کےپردہ تو گیا ساتھ حسین ابنِ علی کے

About this couplet

This is couplet 175 of 186 in “⁨یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۷۵ / ۱۸۶