یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر
تکلیف کچھ ایسی نہیں سایہ ہے ہوا ہےپانی ہے خنک مروحہِ کش بادِ صبا ہےکچھ گرمیِ عاشورہ کا بھی حال سنا ہےسر پیٹنے کا وقت ہے ہنگامِ بکا ہےگذری ہے بیابان میں وہ گرمی شہِ دیں پربھن جاتا تھا دانہ بھی جو گرتا تھا زمیں پر
About this couplet
This is couplet 81 of 186 in “یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۸۱ / ۱۸۶