یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر

لوں چلتی تھی ایسی کہ جلے جاتے تھے اشجارتھا عنصرِ خاکی پہ گمانِ کرۂ نارپانی پہ دو دوام گرے پڑتے تھے ہر بارسب خلق تو سیراب تھی پیاسے شہِ ابرارخاک اڑ کے جمی جانی تھی زلفوں پہ قبا پراس دھوپ میں سایہ بیھ نہ تھا نورِ خدا پر

About this couplet

This is couplet 82 of 186 in “⁨یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۸۲ / ۱۸۶